ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کسی بھی قانون یا فیصلے میں ’آفس آف پرافٹ ‘کی وضاحت نہیں

کسی بھی قانون یا فیصلے میں ’آفس آف پرافٹ ‘کی وضاحت نہیں

Mon, 08 Aug 2016 11:18:43    S.O. News Service

 

نئی دہلی، 7؍اگست(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا )ملک میں کئی ممبران پارلیمنٹ کو’ فائدے کے عہدے ‘پر کام کرنے کو لے کر نااہلی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن ’فائدہ کے عہدے‘ جیسی کسی چیز کی نہ تو کسی قانون میں اور نہ ہی کسی فیصلے میں تشریح کی گئی ہے۔اس کی وجہ سے ایک پارلیمانی کمیٹی کو وزارت قانون سے کہنا پڑا ہے کہ وہ ایک ایسا بل لے کر آئے جس میں ان عہدوں کی فہرست ہو جس پر براجمان رہنے سے کوئی ممبر پارلیمنٹ نااہل قرار دیا جائے گا۔فائدہ کے عہدے سے متعلق پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی نے اپنی دو تازہ رپورٹوں میں کہا ہے کہ فائدے کے عہدے کی تشریح آئین، عوامی نمائندگی قانون، پارلیمنٹ نااہلی تصفیہ ایکٹ یا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے کئے گئے کسی فیصلے میں نہیں کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ ایسی کوئی جامع تشریح طے کرنا مشکل ہے جس میں حکومت کے تحت آنے والے مختلف قسم کے تمام عہدوں کو شامل کیا جا سکے۔اب مشترکہ کمیٹی نے وزارت قانون سے کہا ہے کہ وہ ایک ایسے بل کا مسودہ تیار کرے جس میں واضح طور پر ان اداروں ، دفاتر کی واضح معلومات ہو جس کے عہدوں پر فائز ہونے سے ممبر پارلیمنٹ نااہل قرارپائیں گے، ایسے دفاتر ،ادارے جس میں چھوٹ دئیے جانے کی ضرورت ہے اور ایسے دفاتر اور اکائی جن کے عہدوں پر فائز رہنے سے ممبر پارلیمنٹ نااہل قرارنہیں دئیے جائیں گیں۔کمیٹی اس بات کوواضح کیا کہ ممبر پارلیمنٹ نااہلی تصفیہ ایکٹ کے حصہ ایک اور حصہ دو میں ان اداروں کی فہرست ہے جس کے عہدوں پر رہنے والے کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔کمیٹی نے کہا ہے کہ مشترکہ کمیٹی کا یہ خیال ہے کہ بہت سے ایسے ادارے یا دفاتر ہو سکتے ہیں جنہیں شاید اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہو اور اس کے نتیجے میں اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ منفی فہرست سے باہر کے اداروں یا دفاتر کی رکنیت محفوظ ہے اور اس سے ممبران پارلیمنٹ کی رکنیت متاثر نہیں ہو گی جو کہ یقیناًکوئی صحیح صورت حال نہیں ہے، کیونکہ منفی فہرست سے باہر کے تمام اداروں ، دفاتر کی اس مقصد کے لیے طے کئے گئے رہنماخطوط کے تحت جانچ کئے جانے کی ضرورت ہے۔


Share: